ڈمب شراڈز میں اسکورنگ اور ٹیمیں: منصفانہ طریقے
ڈمب شراڈز میں اسکورنگ کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ وقت کے اندر ہر درست جواب پر ٹیم کو ایک پوائنٹ ملے اور وقت ختم ہونے پر کچھ نہ ملے۔ ٹیمیں برابر کرنے کے لیے دونوں طرف اچھے اداکار اور تیز اندازہ لگانے والے بانٹ دیں، ہر ٹیم میں دو سے چھ لوگ رکھیں اور سب کو اداکاری کی برابر باریاں دیں۔
ڈمب شراڈز میں اسکورنگ کے کون سے طریقے ہیں؟
اپنی محفل کے مزاج کے حساب سے ان میں سے ایک نظام چن لیں:
| نظام | کیسے چلتا ہے | کس کے لیے بہتر |
|---|---|---|
| سادہ | ہر درست جواب پر ایک پوائنٹ | پہلی بار کھیلنے والے، بچے |
| جلدی کا بونس | آدھے وقت میں جواب پر دو پوائنٹس | تجربہ کار گروپ |
| چوری | وقت ختم ہونے پر مخالف ٹیم ایک اندازہ لگا سکے | جوشیلی محفلیں |
| مشکل کے حساب سے | آسان پرچی ایک، درمیانی دو، مشکل تین پوائنٹس | ملی جلی عمر کے کھلاڑی |
| تیز رفتار | ایک منٹ میں جتنی پرچیاں حل ہوں اتنے پوائنٹس | چھوٹا گروپ، کم وقت |
جو بھی نظام چنیں، اسکور ایسا شخص لکھے جو کھیل نہ رہا ہو، یا پھر ہر راؤنڈ کے بعد دونوں کپتان اسکور دیکھ لیں۔
ٹیمیں برابر کیسے بنائیں؟
بڑے خاندانی اجتماع میں ٹیمیں بنانا خود ایک کھیل بن جاتا ہے۔ یہ طریقے آزمائے ہوئے ہیں:
- کپتان چنیں: گلی کرکٹ کی طرح دو کپتان باری باری کھلاڑی چنیں۔ تیز اور مزے دار، مگر آخر میں چنے جانے والے کا دل نہ دکھے، اس لیے بچوں کو پہلے چن لیں۔
- لڑکے بمقابلہ لڑکیاں: شادی کی ڈھولکی پر سب سے زیادہ شور اسی میں ہوتا ہے۔ بس دیکھ لیں کہ دونوں طرف تعداد برابر ہو۔
- کزنز بمقابلہ بڑے: نوجوان تیز ہوتے ہیں، بڑوں کو پرانی فلمیں اور ڈرامے یاد ہوتے ہیں، مقابلہ خود بخود برابر رہتا ہے۔
- پرچی سے: دو رنگ کی پرچیاں ڈال دیں، جو جس رنگ کی اٹھائے اسی ٹیم میں۔ کوئی شکایت نہیں کر سکتا۔
- گھرانوں کے حساب سے: چچا کا گھر بمقابلہ تایا کا گھر، اگر دونوں گھروں میں لوگ برابر ہوں۔
کتنے کھلاڑیوں کی کتنی ٹیمیں بنیں؟
| کل کھلاڑی | بہتر ترتیب |
|---|---|
| 3 | ٹیمیں نہیں، ہر بار ایک اداکار اور باقی دو اندازہ لگائیں |
| 4 سے 6 | دو ٹیمیں، دو یا تین کھلاڑی فی ٹیم |
| 7 سے 12 | دو ٹیمیں، تین سے چھ کھلاڑی فی ٹیم |
| 13 سے 20 | تین ٹیمیں، چار سے سات کھلاڑی فی ٹیم |
| 20 سے زیادہ | تین یا چار ٹیمیں، یا الٹا انداز جس میں پوری ٹیم اداکاری کرے |
بڑی محفل کے لیے الٹا انداز بہت مزہ دیتا ہے، اس کی تفصیل ریورس ڈمب شراڈز میں ہے۔
ٹائمر کتنا رکھیں؟
- بچے اور بزرگ: دو منٹ، تاکہ کوئی جلدی میں گھبرا نہ جائے۔
- عام محفل: ایک سے ڈیڑھ منٹ۔
- تجربہ کار گروپ یا تیز رفتار راؤنڈ: ایک منٹ۔
- لمبے فلمی نام: آدھا منٹ اضافی۔
ٹائمر ہمیشہ مخالف ٹیم کے کسی کھلاڑی کے ہاتھ میں ہو، اس سے بے ایمانی کا شک ختم ہو جاتا ہے۔
ٹیم کے اندر اداکاری کی باری کیسے طے ہو؟
اکثر ایک دو شوقین کھلاڑی ہر بار اداکاری کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں اور شرمیلے لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے:
- کھیل شروع ہونے سے پہلے ہر ٹیم اپنی ترتیب کاغذ پر لکھ لے اور اسی ترتیب سے اداکار آئیں۔
- جب تک ٹیم کے سب لوگ ایک بار اداکاری نہ کر لیں، کوئی دوسری بار نہ آئے۔
- اگر ایک ٹیم میں کم لوگ ہیں تو اس کا کوئی کھلاڑی اضافی باری لے، تاکہ دونوں ٹیموں کو برابر مواقع ملیں۔
- شرمیلے کھلاڑی کو پہلی باری میں آسان پرچی دیں، ایک بار ہنسی شروع ہو جائے تو جھجک خود ختم ہو جاتی ہے۔
کرکٹ والا اسکور کارڈ کیسے بنائیں؟
پاکستانی گھروں میں کرکٹ کی زبان سب سمجھتے ہیں، اس لیے اسکور کو میچ کی طرح رکھیں:
- اوور: ہر ٹیم کی اننگز میں چھ پرچیاں، یعنی ایک اوور۔ بڑی محفل میں دو اوور رکھیں۔
- رنز: وقت کے اندر درست جواب پر ایک رن۔
- چوکا: بیس سیکنڈ کے اندر جواب آ جائے تو چار رنز۔
- ڈاٹ بال: پاس کی گئی یا وقت ختم ہونے والی پرچی۔
- وکٹ: اداکار بول پڑے یا ہونٹ ہلائے تو ایک وکٹ گرتی ہے۔ تین وکٹیں گریں تو اننگز ختم۔
- نتیجہ: دونوں اننگز کے بعد زیادہ رنز والی ٹیم جیتے۔ برابر ہو تو ایک پرچی کا سپر اوور۔
اس کھیل میں پرچیاں بھی کرکٹ کی رکھیں تو مزہ دوگنا ہو جاتا ہے: “بولڈ”، “سنچری”، “بلے باز” اور “شاہد آفریدی” جیسے الفاظ کرکٹ کی کیٹیگری میں ہیں، اور “بیڈمنٹن” یا “باکسنگ” جیسے دوسرے کھیل کھیلوں کی کیٹیگری میں۔
بڑوں اور بچوں کو ایک ساتھ کیسے کھلائیں؟
ملی جلی عمر کی ٹیموں میں تھوڑی سی رعایت سب کو کھیل میں رکھتی ہے:
- چھوٹے بچوں کو آسان پرچیاں دیں، جیسے “کھانا کھانا” یا “غبارہ پھلانا”، جو اداکاری کریں کیٹیگری کے آسان کارڈز ہیں۔
- آٹھ سال سے کم عمر بچے کو اداکاری میں ایک بڑے ساتھی کی مدد لینے دیں، مگر بولنے کی اجازت کسی کو نہیں۔
- بزرگوں کو وقت میں آدھا منٹ زیادہ دیں۔
- ہر ٹیم میں کم از کم ایک بچہ اور ایک بڑا ضرور ہو، تاکہ کوئی ٹیم صرف بچوں کی نہ رہ جائے۔
اسکور جو بھی ہو، اصل جیت وہ ہے جب نانی اماں “شاہد آفریدی” کی اداکاری کرتے ہوئے چھکا ماریں اور پورا کمرہ تالیاں بجائے۔