کیا ڈمب شراڈز میں بول سکتے ہیں؟ آواز اور اشاروں کے اصول
کیا ڈمب شراڈز میں بول سکتے ہیں؟ اداکار بالکل نہیں، نام میں “ڈمب” کا مطلب ہی خاموش ہے۔ لفظ بولنا، ہونٹوں سے لفظ بنانا، گنگنانا، کوئی آواز نکالنا اور ہوا میں حروف لکھنا سب منع ہے۔ اجازت صرف اشاروں، چہرے کے تاثرات اور جسم کی حرکت کی ہے۔ البتہ اندازہ لگانے والی ٹیم جتنا چاہے بول سکتی ہے، اور کچھ گھروں میں آواز والا راؤنڈ بھی کھیلا جاتا ہے۔
ڈمب کا مطلب: خاموشی ہی اصل کھیل ہے
انگریزی میں “ڈمب” کا ایک مطلب گونگا ہے، اور یہی اس کھیل کی جان ہے۔ اگر اداکار بول سکے تو کوئی بھی لفظ دس سیکنڈ میں بوجھ لیا جائے اور کھیل کا سارا مزہ ختم ہو جائے۔ ساری ہنسی اسی کوشش سے پیدا ہوتی ہے جب کوئی بغیر آواز کے “پریشر ککر” یا “بھری بس میں گھسنا” سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔
کیا ڈمب شراڈز میں بول سکتے ہیں: کیا جائز ہے اور کیا منع؟
| عمل | کلاسک اصول |
|---|---|
| ہاتھ کے اشارے اور جسم کی حرکت | جائز |
| چہرے کے تاثرات | جائز |
| انگلیوں سے الفاظ اور حصوں کی گنتی | جائز |
| کسی چیز یا شخص کی طرف اشارہ کرنا | جائز، اگر وہ چیز خود جواب نہ ہو |
| سر ہلا کر ہاں یا نہیں | جائز |
| کوئی لفظ بولنا | منع |
| ہونٹوں سے لفظ بنانا | منع |
| گنگنانا یا سیٹی بجانا | منع |
| جانور کی آواز نکالنا | منع |
| ہوا میں حروف لکھنا | منع |
| کمرے میں رکھی چیز اٹھا کر دکھانا | منع، اگر وہی جواب ہو |
ان میں سے دو قانون ایسے ہیں جن پر سب سے زیادہ جھگڑا ہوتا ہے:
- ہونٹ ہلانا: کچھ کھلاڑی آواز نکالے بغیر ہونٹوں سے لفظ بناتے ہیں۔ یہ بولنے کے برابر ہے اور منع ہے۔
- چیز کی طرف اشارہ: اگر لفظ “کھڑکی” ہے تو کمرے کی کھڑکی کی طرف اشارہ کرنا نقل ہے۔ کھڑکی کھولنے کی اداکاری کریں، اشارہ نہیں۔
بولے بغیر بات کیسے سمجھائیں؟
خاموشی میں بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ یہ عام اشارے ہر محفل میں سمجھے جاتے ہیں:
- ناک چھونا: بالکل صحیح، یہی جواب ہے۔
- ہاتھ سے کھینچنے کا اشارہ: قریب ہو، اور آگے بڑھو۔
- ہاتھ ہلا کر رکنے کا اشارہ: غلط سمت، پیچھے ہٹو۔
- کان کے پیچھے ہاتھ رکھنا: یہ لفظ کسی اور لفظ سے ملتا جلتا ہے۔
- انگوٹھے اور انگلی سے چٹکی بنانا: چھوٹا لفظ، جیسے “کا” یا “کی”۔
- ہاتھوں کو دور کھینچنا: لفظ کو لمبا کرو، جیسے “کھیل” سے “کھلاڑی”۔
مکمل فہرست ڈمب شراڈز کے اشارے والے صفحے پر ہے۔
گھریلو قوانین: تالی، سیٹی اور آواز
ہر گھر کے اپنے قانون ہوتے ہیں، اور کھیل شروع ہونے سے پہلے انہیں طے کر لینا جھگڑوں سے بچاتا ہے۔ عام اختلافات اور ان کا حل:
- تالی: کچھ گھروں میں توجہ کھینچنے کے لیے ایک تالی چل جاتی ہے، مگر تالی سے لفظ کا وزن یا گانے کی تال بنانا منع رہے۔
- سیٹی: کلاسک اصول میں منع، کیونکہ یہ آواز ہے۔
- ہنسی: اداکار کا اپنی ہی اداکاری پر ہنس پڑنا معاف ہے، یہ بولنا نہیں۔
- بچوں کے لیے نرمی: پانچ چھ سال کے بچوں کو ایک آدھ آواز کی اجازت دینا ٹھیک ہے، ورنہ وہ جلدی مایوس ہو جاتے ہیں۔
اگر کوئی بول پڑے تو کیا کریں؟
جوش میں بول پڑنا اس کھیل میں سب سے عام غلطی ہے، خاص طور پر جب ٹیم جواب کے بالکل قریب ہو اور اداکار سے رہا نہ جائے۔ پہلے سے طے شدہ جرمانہ جھگڑا نہیں ہونے دیتا:
| غلطی | عام جرمانہ |
|---|---|
| پورا لفظ یا جواب بول دینا | باری ختم، کوئی پوائنٹ نہیں |
| “ہاں ہاں” یا “نہیں” جیسا چھوٹا لفظ | پہلی بار تنبیہ، دوسری بار باری ختم |
| ہونٹوں سے لفظ بنانا | جواب درست بھی ہو تو پوائنٹ نہیں |
| ہوا میں حرف لکھنا | باری ختم |
| دوسری ٹیم کا جواب بتا دینا | بتانے والی ٹیم کا ایک پوائنٹ کٹے |
فیصلہ کون کرے گا، یہ بھی پہلے طے کر لیں۔ بہتر ہے کہ دوسری ٹیم کا ایک کھلاڑی جج ہو اور اس کا فیصلہ آخری ہو۔
آواز والا ورژن: جب آواز ہی کھیل ہو
کچھ محفلوں میں ایک الگ راؤنڈ رکھا جاتا ہے جس میں بولنا تو منع رہتا ہے، مگر آواز نکالنا جائز ہوتا ہے۔ یہ کلاسک ڈمب شراڈز نہیں، مگر بچوں اور بڑوں دونوں میں بہت مقبول ہے۔ ہماری آواز نکالیں والی کیٹیگری اسی انداز کے لیے ہے، جس میں یہ کارڈز ہیں:
- کتے کا بھونکنا اور کوے کا کائیں کائیں: چھوٹے بچوں کے لیے سب سے آسان۔
- بھینس کا رمبھانا: گاؤں سے جڑے ہر شخص کو فوراً سمجھ آتا ہے۔
- ٹرک کا پیچھے آنے کا بیپ: بڑوں کے لیے مزے دار۔
- دروازے کی گھنٹی اور کیمرے کا شٹر: روزمرہ کی آوازیں۔
- دل کی دھڑکن اور پتوں کی سرسراہٹ: مشکل، کیونکہ آواز ہلکی ہوتی ہے۔
اس راؤنڈ میں بھی ایک اصول رہتا ہے: کوئی لفظ نہیں۔ “بھوں بھوں” جائز ہے، مگر “کتا” کہنا نہیں۔
کلاسک اور آواز والے راؤنڈ کو کیسے ملائیں؟
ایک اچھی ترتیب یہ ہے کہ پہلے دو راؤنڈ مکمل خاموشی والے رکھیں، جیسے اداکاری کریں والی کیٹیگری کے کارڈز کھانا کھانا، گٹار بجانا اور پیٹھ کھجانا، اور تیسرا راؤنڈ آوازوں کا۔ اس طرح کھیل کا اصل مزہ بھی برقرار رہتا ہے اور آخری راؤنڈ میں ہنسی کا دھماکہ بھی ہو جاتا ہے۔